Sunday, 30 October 2011

آئیے حقیقت جانیئے اور غیرمقلدوں کو پہچانیئے حصہ نمبر01


تجلیات صفدر جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 487 ، 488

نمبر [196] آپ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کتا سامنے سے گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے [مسلم ص 197 ج 1] لیکن آپ صلی الله عليه وسلم نماز پڑھاتے رہے اور کتیا سامنے کھیلتی رہی ، اور ساتھ گدھی بھی تھی ، دونوں کی شرمگاہوں پر بھی نظر پڑتی رہی

یہاں [غیرمقلدین] کی طرف سے حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمه الله پر یہ الزام اور بہتان لگایا جاتا ہے کہ مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی نے "آپ صلی الله عليه وسلم" کی گستاخی کی ہے - تو غیرمقلدین کے اس اعتراض ، الزام اور بہتان کی حقیقت جانیئے اور غیرمقلدین کی چالاکیاں اور مغالطے بازیوں کے طور طریقے پہچانیئے

اللهم احفظنا من شرور الغیرمقلدین [آمین ثم آمین]

اس میں اگر کہیں الفاظ کی غلطی ہو تو معذرت اور آگاہ بھی کردیجیئے گا [جزاك الله]
=== = = = = = = = = = = = = = ===
ایک خط کا جواب

وکیل احناف مولانا محمد امین صفدر صاحب نور الله مرقدہ نے مسئلہ تراویح پر ایک رسالہ [جو اس کتاب تجلیات صفدر ج 4 ص 190 تا ص 209 تک ہے] تو اس کے جواب میں ایک غیر مقلد زبیر علی زئی نے خط لکھا - اس خط کے جواب میں مولانا مرحوم نے یہ مضمون تحریر فرمایا [مرتب]

غیر مقلد زبیر علی زئی کے خط کے جواب میں حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمه ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہے

جسے آج کل کے غیر مقلدوں نے واویلا مچایا حضرت مولانا کو بدنام کرنے کے لئے کہ یہ بہتان لگاتے ہے کہ وہ [گستاخ رسول ہے] تو اس کی وضاحت خود حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمه الله کی زبانی آپ پڑھے گے

جس سے ان نام نہاد غیر مقلدوں کے شور اور واویلے کی حقیقت آشکارہ ہوگی -

ہے ڈھولکی میں پولکی یہ تال و سر
ہے خولکی میں پولکی یہ تال و سر

کہ کس طرح یہ غیر مقلدین راہ فرار اختیار کرتے ہیں

ہوا یوں کہ مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمه الله نے ایک رسالہ شائع کیا تھا جس میں 260 باتیں نماز کے بارہ میں ان غیر مقلدین سے پوچھی تھیں - اس کا نام ہی
"غیرمقلدین کی غیر مستند نماز" ہے

اب مکمل وضاحت پڑھیئے حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمه الله کی زبانی

گستاخ رسول : احقر نے دس سال پہلے ایک رسالہ شائع کیا تھا جس میں 260 باتیں نماز کے بارہ میں ان غیر مقلدین سے پوچھی تھیں - اس کا نام ہی "غیر مقلدین کی غیر مستند نماز" ہے

آج تک غیر مقلدوں پر اس کے جواب میں سکوت مرگ طاری ہے - اس رسالے نے غیر مقلدین کے اس جھوٹ کا پول کھول دیا کہ غیر مقلدین کی نماز کے مکمل احکام اور ترتیب صرف قرآن و حدیث سے ثابت ہے - البتہ مجموعہ رسائل میں کچھ کاتب کی غلطیاں تھیں - ناشر نے یہ ضروری اعلان لگادیا کہ اگر ان رسائل میں کوئی غلطی ہو تو غلطی مرتب کی ہی کوتاہی سمجھیں نہ کہ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمه الله کی [مجموعہ رسائل جلد سوم ص 4]

اس رسالہ میں کچھ اعتراضات اہل حدیث کے بڑے بھائی اہل قرآن کی طرف سے نقل کئے گئے تھے جن کا جواب نام نہاد اہل حدیث پر فرض تھا - مثلآ ص 197 پر ہے آنحضرت صلی الله علیه وسلم نے فرمایا کہ گدھا سامنے سے گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے [مسلم ص 197 ج 1] لیکن آپ صلی الله علیه وسلم نے نماز پڑھائی جبکہ سب کے سامنے گدھی چررہی تھی [مسلم ص 196 ج 1 ، ابو داؤد ، نسائی] بلکہ آپ [صلی الله علیه وسلم] نے گدھے پر نماز ادا فرمائی - یہ قول و فعل کا تضاد کیوں [اس کا جواب اب تک غیر مقلدین نہیں دے سکے

ص 198 پر ہے - آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا کتا سامنے سے گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے [مسلم ص 197 ج 1] لیکن آپ صلی الله علیه وسلم نماز پڑھاتے رہے اور کتیا سامنے کھیلتی رہی اور گدھی بھی چرتی رہی

اہل قرآن اہلحدیث سے یہ پوچھتے ہیں کہ یہ کیسے پتہ چلا کہ یہ سامنے چرنے والا گدھا نہیں گدھی ہے اور کھیلنے والا کتا نہیں کتیا ہے - یہ امتیاز شرمگاہ پر نظر پڑنی سے ہوتا ہے یا کے بغیر ؟

اگر شرمگاہ پر نظر پڑنے سے ہی یہ امتیاز ہوتا ہے تو اس نظر پڑنے سے نماز لوٹائی نہیں گئی - کیا آپ کے نزدیک شرمگاہ پر نظر پڑنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے یا نہیں ؟ اہل قرآن نام نہاد اہلحدیث سے یہ سوال پوچھتے ہیں

وہ آج تک [اہل قرآن والوں کو] جواب نہیں دے سکے کہ یہ امتیاز کہ وہ گدھا نہیں تھا گدھی تھی اور کتا نہیں تھا کتیا تھی کیسے ہوا تھا - جن کی نظر دونوں کی شرمگاہوں پر پڑی ان کی نماز کا کیا حکم ہے ؟

کاتب نے درمیان سے کچھ عبارت غلطی سے چھوڑ دی

اب [یہ غیرمقلد] اپنی نماز ثابت تو نہیں کرسکے نہ اہل قرآن کے اعتراضات کا جواب دے سکے ، [مجھے گستاخ رسول کہنے لگے

حالانکہ کئی سالوں سے میں نے ناشرین سے کہہ بھی دیا تھا کہ صفحہ نمبر 198 کی آخری سطر حذف کردیں - کیونکہ اس کو بہانہ بناکر وہ [غیرمقلدین] کتاب کا جواب دینے سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں - لیکن ناشر نے توجہ نہ دی - اب یہ رسائل دوسرے ناشر کو دیئے جارہے ہیں - وہ اغلاط کی تصیح کے بعد شائع کرے گا

تجلیات صفدر جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 233 تا 234 سے انتخاب جو غیرمقلد زبیر علی زئی کے خط کے جواب میں دیا گیا جواب

یہ تھی حقیقت غیرمقلدین کے بھونڈے اعتراض کی

یا الله ! سچ بات سمجھنے ، ماننے اور اسے انجان لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنا ، اور زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرما [آمین ثم آمین]

تجلیات صفدر جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 233 تا 234 سے انتخاب لاجواب؟

Friday, 28 October 2011

تبلیغی جماعت پر اعتراضات اور ان کا جواب


سوال

1 فضائل اعمال کی جگہ قرآن پاک ، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کا درس کیوں نہیں دیا جاتا جو کہ صحیح ترین کتب ہیں ؟
2 کل وقتی کارکنان امراءاور بیرون کے لیئے وفود کا خرچہ کہاں سے آ تا ہے۔ نیز اجتماع کا خرچہ کہاں سے آتا ہے۔حالانکہ تبلیغی جماعت کوئی چندہ اکٹھا نہیں کرتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً ہر جنگ سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ سے مالی اعانت لی ؟
3 تبلیغی جماعت کے ساتھ کتنا وقت لگانے سے ایک مسلمان قرآن اور حدیث سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے ؟
4 مضبوطی ایمان کے لیے کتنا عرصہ درکار ہے؟
5 عربوں کو ریاض الصالحین اور عجمیوں (پاکستانی ،ہندوستانی وغیرہ)کو فضائل( فضائل اعمال،صدقات،حج،درود ۔۔) کی کتابیں کیوں پڑھائی جاتی ہیں؟
6 فضائل اعمال کا عربی ترجمہ کیوں نہیں ہوا؟
7 کیا تبلیغی جماعت دیوبندیوں میں بھی ایک فرقہ ہے؟
8 ترجمة القرآن سیکھنے اور سکھانے سے کیوں روکا جاتاہے؟
9 تبلیغی جماعت کا دعوی ہے کہ سب ٹھیک ہے تو تہتر میں سے کون سا فرقہ جنت میں جائے گا؟
10 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے لئے جماعتیں روانہ کیں کیا تبلیغی جماعت نے کبھی اس سنت پر عمل کیا یا ان کا ابھی مکی دور ہی مکمل نہیں ہوا ؟
11 تبلیغی جماعت کے ارکان جہاد سے کیوں جی چراتے ہیں؟ حالانکہ ان کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔کشمیری ، فلسطینی ،عراقی ،افغانی مائیں بہنیں مدد کے لئے پکار رہی ہیں۔مسلمانوں کی عزت و ناموس لٹ رہی ہے اور یہ حضرات لوٹا،بستر اٹھائے تبلیغی مشن پرکیوں روانہ ہوتے ہیں حالانکہ یہ وقت ہتھیار اٹھانے کا ہے؟مسلمان مجاہد جہاں جاتا تھا وہاں اسلام کی تبلیغ کا کام بھی کرتا تھا۔تبلیغ کا یہ طریقہ کیوں نہیں اپنایا جاتا؟ جہاد فرض ہے چاہے ناگوار گذرے “
کتب علیکم القتال وھوکرہ لکم وعسی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم وعسی ان تحبوا شیا وھو شر لکم وااللہ یعلم وانتم لا تعلمون (سورہ البقرہ 2 / 216)ترجمہ:۔ تم پر قتال فرض کیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہیں ناگوار گذرتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک چیز کو تم ناگوار سمجھو اور وہی تمہارے لئے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بری ہو۔اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
جزاک اللہ

جواب

صور ت مسئولہ میں فضائل اعمال حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب کی تالیف ہے یہ کتاب اردوزبان میں لکھی گئی ہےاس کتاب کے لکھنے کا مقصود یہ ہے کہ اعمال کے فضائل اور گناہ کے ارتکاب پر وعیدیں بیان کئے جائیں تاکہ لوگوں کے ذہن میں اعمال کی اہمیت اور گناہوں سےبچنے کا شعور پیدا ہو کہ لوگ اعمال کرنے لگ جائیں اورگناہوں سے اجتناب کرنے لگ جائیں ۔ اس کتاب کا مقصد احکام اور مسائل کو بیان کرنا نہیں ہے اس لیے کہ اس کتاب میں احکام ،مسائل کے بارے میں کچھ نہیں لکھا گیا ۔
جماعت دعوت تبلیغ کا مقصود چونکہ لوگوں کو اعمال پر لگانا اور گناہوں سے بچانے کی کوشش کرنا ہے ،احکام و مسائل بتا نا نہیں اس لیے وہ اپنےتعلیمی حلقوں میں اسی کتاب کو سامعین کے سامنے بیان کرتے ہیں۔رہاقرآن کریم ،صحیح بخاری اور صحیح مسلم کا درس تو چونکہ ان کتابوں میں احکام ومسائل بیان کیے گئے ہیں اور اس کے درس کے لیے علم کی ضرورت ہے یہ ہر تبلیغی کارکن کے پاس نہیں اور نہ ہی جماعت تبلیغ کا مقصود احکام کا بیان ہے بلکہ فضائل سن کر احکام سیکھنے کے لیے علماء کرام کی طرف رجوع کا مشورہ دیتے ہیں اس لیے اپنی مجلسوں میں ان کتابوں کادرس نہیں دیتے۔
دوم یہ کہ فضائل اعمال نامی کتاب میں جوفضائل بیان ہوئےہیں وہ قرآن کریم کی آیتوں اور احادیث رسول جو مختلف کتابوں مثلاً بخاری ،مسلم،ابوداؤد وغیرہ میں موجود ہیں ،ان سے لیے گئے ہیں تو یہ قرآن اور حدیث سے ہٹ کر تو نہیں۔
۔بیرونی یا اندرونی جماعتیں جو تبلیغ دین کا کام کرتی ہیں یہ جماعتیں اپنے خرچے اور اپنے وسائل پرچلتی ہیں کسی سے تعاون نہیں یہی معاملہ اجتماع کا ہے ۔ مسلمان باہمی تعاون سے اس نظام کو سنبھالتے ہیں اور اس کے اخراجات اٹھاتے ہیں۔

۔جیسے پہلے بتایا گیا ہے کہ اس جماعت کا مقصد ثواب کے کاموں کی ترغیب اور گناہ کے کاموں سےبچنے کی تلقین ہے ،درس وتدریس ،تعلیم تعلم نہیں ،اس لیے یہ سوال بے محل ہے ،ہاں اس جماعت کے ساتھ جڑجانے سے علم دین کے حصول کا جذبہ اس میں پیدا ہوتاہے ،اہلِ علم سے تعلق پیدا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے دین کے بارے میں کافی حد تک معلومات ہوجاتی ہیں باقی قرآن و حدیث کا سمجھنا انسان کے اپنے فہم و فراست پر مبنی ہے اگر انسان علم دین کے حصول میں لگ جائے ،صاحبِ فہم و فراست ہو اور اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو تو وہ بہت جلد قرآن و حدیث کو سمجھنے لگ جاتا ہے اس کے لیے کوئی وقت یا زمانہ متعین نہیں ۔
۔اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ۔
۔"فضائل اعمال"چونکہ اردوزبان جاننے والوں کے لیے لکھی گئی ہے اس میں احادیث کا ترجمہ لکھا گیاہے جبکہ "ریاض الصالحین"عربی زبان میں سے ہے اور اہلِ عرب عربی زبان کو آسانی سے سمجھتے ہیں اور دونوں کتابوں میں اعمال کے فضائل اور معاصی کے ارتکاب پر وعیدوں کا تذکرہ ہے ،اس لیے اہلِ عرب کو "ریاض الصالحین "اور اہل عجم کو" فضائل اعمال" سے تعلیم دی جاتی ہے۔
۔یہ تو امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کرے کوئی کرنا چاہے تو کسی کی طرف سے پابندی نہیں۔
۔ "تبلیغی جماعت"یا دیوبند مکتبہ ٔ فکر کوئی فرقہ نہیں ہے ،اہل سنت والجماعت ہے جو کہ اہل حق کی جماعت ہے ،دین کی تبلیغ وترویج اپنی ذمہ داری سمجھتےہیں اسی پر عمل پیرا ہیں ۔
۔آج تک انہوں نے نہ قرآن کریم کے سیکھنےسے روکا ہے اور نہ ہی اس کے ترجمہ وتفسیر سے بلکہ جماعت دعوت و تبلیغ میں جڑنے سے قرآن کریم کے سیکھنے کا شوق پیدا ہوجاتا ہے ۔علم دین کے احکا م و مسائل سے تعلق پیدا ہوجاتا ہے ،پھرقرآن کریم ،احادیث اورت احکام و مسائل سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
۔ کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ سب ٹھیک ہے ،اگر یہ کہتے تو پھر دعوت و تبلیغ کا کام کیوں کرتے ،لوگوں کو برائیوں سے نکا ل کر خیرو بھلائی کی طرف کیوں لاتے ، ہاں دین کی طرف راغب کرنے میں وہ اپنی حکمت عملی کے تحت میانہ روی اختیار کرتے رہتے ہیں ۔
۔اس جماعت نے کسی کو منع نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان کا یہ نظریہ ہے ۔کتنے افراد ایسے ہوں گے جو جہاد کے شعبے سے وابستہ ہوں گے ۔
دوم یہ کہ دین کے کئی شعبے ہیں تدریس ،تبلیغ ،جہاد وغیرہ ہرشعبہ اپنی جگہ صحیح ہے ۔ہر شعبہ کا اپنا کام ہوتاہے ،نہ تمام افراد تدریس سے وابستہ ہوسکتے ہیں اور نہ ہی دعوت و تبلیغ سے اور نہ ہی جہاد سے لہٰذا یہ کہنا کہ جماعت دعوت و تبلیغ نے کوئی جماعت جہاد کے لیے روانہ نہیں کی ایک غیر معقول بات ہے۔

Thursday, 20 October 2011

Masail Hajj


Dengue Se Bachao (Tib-e-Nabvi S.A.W)


Misc. of Islam n News






Truth Islam (Nabi S.A.W)





Miswak Sunnat-e-Nabvi S.A.W