Tuesday, 20 September 2011

غیر مقلدین کی بہانک خدمات


وہابی ازم محض ايک اسلامی فرقہ ہے جو اٹھارویں صدی میں پھلا پھولا تھا۔ اس فرقے کی مثال عيسايیوں کے پیوریٹن فرقے کی سی ہے جسے سترہویں صدی میں انگلستان، نیدر لينڈاور ميسے چوسٹ میں فروغ حاصل ہوا تھا۔پیورٹین اور وہابی دونوں فرقوں کو وعویٰ ہے کہ انہوں نے اصل دین کی طرف مراجعت کی ہے لیکن يہ دونوں فرقے مکمل طور پر نئے اور اس وقت کے مخصوص حالات کے ردعمل کے طور پر معرض وجود میں آئے تھے ۔

پیغمبر اسلام کی سوانح حیات ص 31 کيرن آرمسٹرانگ



کیا آپ جانتے ہیں کہ غیر مقلدین (نام نہاداہلحدیث) میں کتنے فرقے پائے جاتے ہیں؟

غیر مقلد (نام نہاد اہلحدیث) میں14فرقے پائے جاتے ہیں

-1جماعة دعوة اہلحدیث

-2جمعیت اہلحدیث

-3غرباءاہلحدیث

4 -يوتھ فورس اہلحدیث

5-سلفی اہلحدیث

6-ثنائيہ اہلحدیث

7-غزنوی اہلحدیث

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں

محمد بن مثنی، یحیی ، ہشام، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ نے ایک گرجا، حبش دیکھا تھا، اسمیں تصویریں تھیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں میں جب کوئی نیک مرد ہوتا اور وہ مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے، یہ لوگ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن بدترین خلق ہوں گے۔ (بخاری جلد ۱ پارہ ۲ حدیث نمر ۴۱۳ و ۴۲۰)

ابوالیمان، شعیب، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (وفات کی) بیماری لاحق ہوئی، تو آپ اپنی چادر بار بار اپنے منہ پر ڈالتے تھے، جب اس سے آپ کو گرمی معلوم ہوتی، تو اس کو اپنے چہرے سے ہٹا دیتے، اسی حالت میں آپ نے فرمایا کہ یہود ونصاری پر خدا کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، آپ ان کے افعال سے ممانعت فرماتے تھے۔ (بخاری جلد ۱ پارہ ۲ حدیث نمبر ۴۲۱ ، ۴۲۲)

Ya ALLAH! Don't let us die

Ya ALLAH! Don't let us die, Unless we are true Muslims
Ya ALLAH! Don't let us die, Unless You are satisfied with us
Ya ALLAH! Don't let us die, Unless the strength of our Imaan is what you want it to be
Ya ALLAH! Don't let us die, Unless our hearts are clean
Ya ALLAH! Don't let us die, Unless our families are happy with us
Ya ALLAH! Don't let us die, Unless everyone that we may have hurt have forgiven us
Ya ALLAH! Don't let us die, Unless Muhammad صلي الله عليه وسلم is proud of us
Ya ALLAH Don't let us die, Unless the tears in our eyes when we cry to You are crystal clear
Ya ALLAH! Don't let us die, Unless we have received the key to Your Garden of Peace.

Monday, 12 September 2011

The Two Holy Mosques King Abdullah on Friday launched The Largest Expansion Of The Grand Mosque in History




MAKKAH:
Custodian  of  The Two  Holy  Mosques
King  Abdullah  on
 Friday launched The Largest Expansion
Of The Grand Mosque in History
Which Will increase The Mosque's Capacity
To More Than 2.5 Million Worshippers
And Cost SR 80 Billion.
sau_haram.jpg
 A Model of The  New Expansion Of The Grand Mosque
sau_largest.jpg
Construction work in Progress For The Historic Expansion of the Grand Mosque in Makkah.
Before laying The Foundation For The New Expansion,
King Abdullah inspected Models Of The Expansion Project
As Well As Other Development Projects
 implemented in Makkah And Other Holy Sites.
King Abdullah Dedicated The New Expansion
To The Islamic world.
A documentary screened during the ceremony
said the expansion’s main gate would be named after King Abdullah and
 will have two minarets, bringing the mosque’s total number of minarets to 11.
The new project, covering 400,000 sq.
meters in the northwest and northeast of the mosque, is the project of the century, said Muhammad Al-Khozaim, vice president of the Presidency for the Two Holy Mosques Affairs.
Al-Khozaim disclosed plans to expand the mataf (the circumambulation areas around the Holy Kaaba) and provide air-conditioning for all parts of the Grand Mosque, adding that the two schemes would be carried out shortly along with the new Haram expansion project. Abdul Mohsen Bin Humaid, director of projects, said the

Thursday, 8 September 2011

پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ ؟؟


پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔ ؟؟

https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash2/39849_420866180333_672380333_5423131_2904486_n.jpg

یہ میرا پاکستان ہے' اس کی چھاتی پر رواں دواں دریا' اس کی آغوش سے پھوٹتی رحمتوں کے سلسلے' اس کے آنگن میں رقص کرتی ندیاں' اس کے پہاڑوں میں اچھلتے کودتے چشمے' اس کے میدانوں میں شاداں و فرہاں پری رو درخت' زیبا بدن سبزے' نورنگ پھول' پھیلتی سمٹتی روشنیاں' رشک مرجاں شبنمی قطرے' لہلہاتی فصلیں' مسکراتے چمن' جہاں تاب بہاریں اور گل پرور موسم اس کی عظمت کے گیت گا رہے ہیں۔ اس کے پنجابوں پر جھکے جھکے آفاق' اس کی سرحدوںِپر پھیلی پھیلی فضائیں' اس کے بام و تخت کے بوسہ لیتے آسمان اس کے حسن تقدیر کے نقوش بن کر ابھر رہے ہیں۔ یہ میرا ملک بھی ہے' یہ میری تقدیر بھی ہے۔یہ میری داستان بھی ہے' یہ میرا ارماں بھی ہے۔ یہ میری مچلتی آرزو بھی ہے' یہ میری آرزوؤں کا آستاں بھی ہے' میرے خون کے قطروں میں لکھت میں وہ عزم و حوصلہ نہیںجو اس کے آبی قطروں میں ہے۔ میرے دیدہ وچشم کی جھیلوں میں وہ جمال نہیں جو رومان و حسن اس کے جوہڑوں اور تالابوں میں ہے۔ میرے وجود کی مٹی میں وہ دلکشی نہیں جو جاذب نظر اور دلفریبی اس کی خاک میں ہے۔ یہ پھولوں کی دھرتی ہے۔ یہ خوشبوؤں کا مسکن ہے۔ یہ نظاروں کا دیس ہے۔ یہ رحمتوں کی جولانگاہ ہے۔ یہ روشنیوں کا کشور ہے۔ یہ اجالوں کا مصدر ہے۔ اس پر نثار میرے دل وجاں۔ اس پر تصدق میری جز ہائے بدن۔ یہ محض میرا ملک نہیں میرا ایماں بھی ہے' میری جاں بھی ہے' اس کے دکھ مجھے دکھ دیتے ہیں' اس کے سینے سے اٹھنے والے مسائل کے ہوکے میرے دل میں چھبنے والی سوئیاں ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی طرف کوئی ٹیڑھی نظر سے دیکھے تو گویا وہ آنکھ نہیں' میرے جسم میں پیوست ہونے والا تیر ہوتا ہے۔